19 مارچ 2010 - 20:30

بعض اخبارات کی اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی افواج کو اسرائیلی فوج مظاہروں اور احتجاجات روکنے اور بے گناہ عوام کو خوفزدہ کرنے کی ٹرینگ دے رہی ہے اور کشمیر کے مظلوم عوام پر اسرائیلی وحشی حربے اور تشدد کے نئے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں ۔

بھارت اور اسرائیل کا فوجی تربیت کا معاملہ تو قابل فہم ہے لیکن یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ عرب ممالک کی افواج بھی اسرائیلی فوج کی طرح وحشت اور بربریت کا مظاہرہ کرسکتیںہیں۔ اس وقت عرب ممالک میں اٹھنے والی بیداری کی لہر کو عرب فورسز جس انداز سے کچلنے میں مصروف ہیں تویہ تصور حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے حیرت اس بات پر ہے کہ بحرین میں آل سعود کی افواج کے کردار اور ظالمانہ کاروائیوں کے بعد یہ خیال ذہن سے اتر جاتا ہے کہ یہ کسی اسلامی ملک کی افواج ہیں ۔ بحرین میں نہتے مسلمانوں پرہر بار ڈھائے جانے والے نئے ظلم کی ہر فوٹیج اور ہر ووڈیوکو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ اسرائیلی فوجی ٹیکٹیک ہے جو بے گناہ فلسطینیوں پر وہ عرصہ دراز ے استعما ل ہو رہی ہےآخر اسرائیلی فوجی ٹیکٹیک میں ایسی کیا چیز ہے ؟پہلی بات تو یہ ہے کہ اسرائیلی افواج کے لئے فلسطینیوں کی حیثیت ایک ازلی و ابدی اور نفرت انگیز ترین دشمن کی ہے ۔ فلسطینیوں کو تنگ کرنا ،مارنا ،اذیت دینا اورقتل کرنا اسرائیلیوں لئے ایک عقیدتی سکون کا باعث ہے کیونکہ وہ تلمود نامی اس نام نہاد کتاب کی تعلیمات کی روشنی میں فلسطینیوں کا سامنا کرتے ہیں کہ جس میں غیر یہود کو کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر کہا گیا ہے اور ان کے قتل میں تقرب الٰہی کا جذبہ شامل کیا گیا ہے ۔دوسری بات اسرائیلی افواج کی تربیت اس انداز میں ہوتی ہے جس میں غیر یہود سے انتہائی نفرت کے ساتھ ساتھ وحشت، بربریت اور دہشت کے تمام گر سکھائے جاتے ہیں اس طرح کہ وہ کسی انسان کو اپنی بربریت کا شکار کرتے وقت انجوائے کریں ،خلاصہ یہ کہ اسرائیل فوجی کے اندرتمام انسانی جذبات اور احساسات کا خاتمہ کرکے اسے ایک وحشی درندے میں تبدیل کیا جاتا ہے ۔ گذشتہ سالوں میں اس قسم کے عملی نمونے کشمیر میں ہندوستانی افواج نے دکھائے جو مکمل طور پر وحشیانہ اور بے رحمانہ تھے ۔اس وقت بحرینی عوام کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ کسی بھی طور سے کسی عرب مسلمان ملک کی افواج کا کردار نظر نہیں آتا ۔اگرچہ اس مختصر مضمون میں ان تمام نمونوں کو پیش تو نہیں کیا جاسکتا لیکن چند ایک نمونے پیش کرنا ضروی ہیں تاکہ قاری سمجھ سکے کہ بحرین میں کیا کچھ ہورہا ہے ۔بحرین کے پرل سکوائر میں تقریبا تین ہفتوں سے عوام کا احتجاجی کیمپ لگا ہوا تھا اور ان تین ہفتوں کے اندر وہاں ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا کیمپ میں قومی ترانوں سمیت مختلف گیت،ملی نغموں اور تقاریر سے ان کے شب روز گذررہے تھے بعض عرب اخبارات کے مطابق یہ کیمپ اس قدر منظم اور مہذب تھے کہ بحرین کی فورسز بھی ڈیوٹی کے دوران کیمپ سے کھانا کھاتے تھے چائے پیتے تھے اور ان سے گفت وشنید بھی کرتے تھے کیونکہ فورسز کو اپنی عوام پر مکمل بھروسہ تھا کہ وہ انتہائی پرامن ہیں اور مہذب انداز سے ا پنا احتجاج کر رہے ہیں ۔کیمپ سے باہر روزانہ ریلیاں منعقد ہوتیں تھیں جن میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعدا دمیں عوام شرکت کیاکرتیں تھی اور کبھی کبھی یہ ریلیاں چھ چھ کلومیٹر لمبی ہواکرتیں تھیں ریلی کے شرکاءکے ہاتھوں میں بحرین کا پرچم ،قرآن مجید ،اور گلاب کے پھول ہواکرتے تھے ان کے لبوں پر جمہوریت ،آزادی رائے ،اور بحرینی وحدت کے نعروں کے علاوہ سلمیہ سلمیہ یعنی اس بات کی یقین دہانی کہ ہم پر امن ہیں کے نعرے ہوا کرتے تھے ۔ عرب نامہ نگاروں کے مطابق ایسا لگتا تھا کہ یہ کوئی فرینڈ لی اپوزیشن ہے جو تبدیلی بھی چاہتی ہے لیکن حکومت سے ٹکر بھی نہیں لینا چاہتی اور عام احتجاجی انداز جس میں بعض اوقات تھوڑا بہت عوامی غصہ شامل ہوتا ہے کو بھی اپنانا نہیں چاہتی ۔بحرین کی فورسز اس عوامی احتجاج سے مطمئن تھیں انہیں ڈیوٹی کے دوران کسی قسم کی پریشانی نہیں تھی وہ اپنی عوام کو دیکھ رہے تھے کہ انتہائی مہذب ،پر امن ہیں اور مکمل طور پر وطن کی سا لمیت کے نگہبانوں کی طرح اپنے جائز مطالبات کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں ۔لیکن !اچانک سب کچھ بدل گیا ،گلاب کے پھول گولیوں میں بدل گئے ،پرل سکوائر پر شب خون مارا گیا اور تلواروں اور ڈنڈوں سے کرایے کے غنڈوں نے عوام پر وحشیانہ حملے شروع کردیے ۔ یہ حقیقت ہے کہ جب بھی کسی ملک میں بیرونی مداخلت ہوئی وہ ملک تباہ و بربادہو گیا افغانستان ،عراق،لیبیا، سمیت کئی دیگر ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔بحرین میں سعودی افواج کا داخلہ ایسا ہی ہے جیسے غزہ پر اسرائیلی افواج کا داخلہ،لیکن فرق صرف یہ ہے کہ غزہ میں عوام کے پاس بیرونی جارحیت کے مقابلے کے لئے کچھ نہ کچھ موجودہے غزہ کی عوام کی عالمی سطح پر کوئی نہ کوئی آواز اٹھتی ہے لیکن بحرین کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔جس کی بنیادی وجہ آل سعود ،آل خلیفہ اور امریکی میڈیا اور ڈپلومیسی کی وہ چالیں ہیں جو عالمی سطح پر بحرینی عوام کی جد وجہد کو مذہبی فرقہ واریت کا رنگ دیکر سبوتاژ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔بحرین میں اس وقت عوام کو ہراساں کرنے کا ہر وہ ہتھکنڈہ استعمال ہورہا ہے جس کے نمونے غزہ میں نظر آتے ہیں مثلا جگہ جگہ چیک پوسٹوںپر عوام کو دس گز پہلے سے ہی کپڑے اتار کر صرف انڈر وئیر کے ساتھ ہینڈ زاپ کی شکل میں گذرنا پڑتا ہے اور اگر کسی طرح اس کا تعلق احتجاج کرنے والوں میں سے ہے تو وہیں پر کھڑے کھڑے ٹاچر کیا جاتا ہے جس میں چاقو سے بدن پر چھوٹے چھوٹے کٹ لگانے سے لیکر جسم کے نازک حصوں کو زخمی کرنا شامل ہے اور پھر اگر زخمی ہو کر وہ ہسپتال جائے تو وہاں پہلے فورسز کی تفتیش اور اسی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ گذر چکا ہے اگر وہ زیادہ فعال افراد میں سے ہے تو پھر اسے فوجی ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے جہاں سے کم ہی لوگ اب تک زندہ آئے ہیں ۔راتوں کو اچانک آبادیوں اور محلوں میں دسیوں ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ داخلہ ہوجانا اور گھر گھر تلاشی شروع کرنا اشخاص کو ان کی فیملی اور بچوں کے سامنے بے عزت کرنا معصوم بچوں کو ڈرانا دھمکی دینا یا بعض اوقات گرفتار کرنا ۔گھروں یا دوکانوں یہاں تک کہ مساجد کی توڑ پھوڑکرنا پارکینگ میں کھڑی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور آگ لگادینے کے واقعات تو اس قدر زیادہ ہیں کہ اب یہ معمول بن چکا ہے ہم نے انٹرنیٹ پر دسیوں ایسی ووڈیوز دیکھیں جس میں لوگوںکو کھڑے کھڑے ٹاچرز سے لیکر ان کی گاڑیوں کو تباہ کرتے دیکھا یا گیا ہے درحقیقت اس قسم کی وحشیت کو ہم نے اسرائیلی افواج میں ہی دیکھا تھا جو فلسطینیوں کے ساتھ انجام دیتے تھےاس وقت بحرین کے اکثر علاقے غزہ کی طرح محاصرے میں ہیں اور وہاںکرفیو لگا ہوا ہے جہاں سے بھی احتجاج کی آواز آتی ہے وہاں وحشیانہ آپریشن شروع ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بحرینی عوام کے احتجاج بند نہیں ہوئے اگرچہ اس وقت یہ احتجاج مرکزی شارع سے ہٹ کر مضافاتی حصوں میں ہورہے ہیں لیکن عوام اب بھی سڑکوں پر نکلتی ہے۔اس وقت بحرین میں مسنگ پرسنز یاا غوا شدہ افراد کی تعداد دو سو ہے جن میں اب تک تین افراد شہیدوں کی شکل میں سامنے آئے ہیں جو ٹاچرز کے سبب شہید ہوئے ہیں ۔ادھر بحرین میں آل خلیفہ مسلسل بیرونی ممالک خاص کر پاکستان سے کرایے کے غنڈوں کی ترسیل میں لگا ہوا ہے جن کا کام عوامی احتجاج کا قلع قمع کرنا ہے ۔یہاں اس بات کا اضافہ ضروری ہے کہ بحرینی حکومت اور سعودی عرب کی مسلسل کوشش ہے کہ بحرین میں کسی طور پر بھی فرقہ واریت کی آگ بڑھکائی جائے لیکن آفرین ہے بحرینی عوام کو جو اس آگ کی لپیٹ سے اب تک خود کو بچائے رکھے ہوئے ہیںلیکن اب لگتا ہے کہ بیرون ممالک سے بولائے جانے والے فرقہ پرستوں کے زریعے اس آگ کو بڑھکانے کی کوششیں کی جائیںگی کیونکہ ہمیں پاکستان سے بحرین کی نیشل گارڈ میں جانے والے افراد کی اکثریت کو دیکھ کر تو کم ازکم یہی اندازہ ہوتا ہے ۔ہم آخر میں یہاں بحرینی جوانوں کی اس اپیل کے ساتھ جو انہوں نے دنیا بھر کے باضمیر انسانوں سے کی ہے اور اس دعا کےساتھ جو اکثر اوقات خود عرب ایسے مواقع پر کیا کرتے ہیں کہ بحرینیہ اللہ حامیة بحرین کی عوام اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ہی کہہ سکتے ہیںدنیا بھر کے باضمیر انسانوں سے بحرینی جوانوں کی یہی اپیل ہے کہ اپنے ممکنہ وسائل سے ہماری مدد کریں جس میں پرامن احتجاج ،احتجاجی خطوط و مراسلے ،میڈیا پر درست خبروں کی ترسیل ،سمینار کانفرنسز پینا فلیکس ،جیسے وسائل ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110